جِن احباب کا آن لائن کام سے کچھ واسطہ ہے یا پھر جو بین الاقوامی منی
ٹرانسفر کے بارے میں معلومات رکھتے ہیں، انہوں نے پایونئر( Payoneer) کا نام ضرور سنا ہو گا۔ یہ ایک کمپنی ہے جو بنیادی طور پر آن لائن
کاروبار کرنے والے لوگوں کو رقم کی ترسیل کی سروسز فراہم کرتی ہے۔ اس کی سب سے
ممتاز خصوصیت اسکا جاری کردہ "پایونئیر ماسٹر کارڈ" ہے جسکی مدد سے
صارفین کسی بھی ماسٹر کارڈ سپورٹڈ اے ٹی ایم مشین سے اپنی رقم نکلوا سکتا ہے۔ اسکی دیگر سروسز کے بارے
میں آپ وکی پیڈیا اور اسکی اپنی ویب سائٹ پر دیکھ سکتے ہیں۔
Tuesday, May 3, 2016
Wednesday, May 27, 2015
وہ ہم سخن ہمارا۔۔۔۔
Posted by
Unknown
میں اسے کب سے جانتا ہوں یہ ٹھیک طرح سے یاد نہیں، مگر یہ دوستی ہمیشہ سے ہی بہت مضبوط اور نایاب ثابت ہوئی۔ مجھے سیلف میڈ لوگ ہمیشہ انسپائر کرتے ہیں اور اشتیاق ایک ایسا ہی محنتی، خوددار اور اپنی ذات میں مگن رہنے والا نوجوان تھا۔ وہ اس لحاظ سے سب دوستوں میں منفرد تھا کہ اس نے اپنی پہلی بائیک، لیپ ٹاپ اور سمارٹ فون اپنی محنت کی کمائی سے لئے تھے جبکہ ہم باقی دوست ان تمام نعمتوں کیلئے اپنے والدین یا بڑوں کے ممنون تھے۔ اپنی محنت اور خوش اخلاقی کیوجہ سے وہ اساتذہ کی نظر میں بھی بہت معتبر تھا۔
Thursday, April 3, 2014
کنفیوژن، نوجوان نسل اور سوشل میڈیا !
Posted by
Unknown
بات تعلیم کی ہو، ملازمت کی، سیاسی معاملات کی یا پھر سماجی
تعلقات قائم کرنے کی، ہماری نوجوان نسل
میں قوت فیصلہ کی کمی بہت واضح ہے۔ بہت سے
چھوٹے چھوٹے مسائل کا حل بھی کنفیوژن کی نظر ہو جاتا ہے اسکی بنیادی وجہ ہمارے نظام
تعلیم کی کمزوری کے ساتھ ساتھ مناسب راہنمائی کے کلچر کا فقدان ہے ۔ مختلف مقاصد کے لئے کام کرنے والی لابیاں اسی
معاشرتی کمزوری کو اپنے حق میں استعمال کر تی ہیں اورمعاشرے میں منافرت اور مایوسی
پھیلا رہی ہیں۔
اس معاملے کا سب سے دردناک پہلو یہ ہے کہ،یہ کنفیوژن نہ
صرف نوجوان نسل بلکہ نام نہاد دانشور طبقہ میں بھی پائی جاتی ہے- تازہ ترین مثال گزشتہ ہفتے روزنامہ جنگ کے دو
کالم نویسوں کی 'مولوی قائد اعظم یا
سیکولر قائد اعظم' پر بیوقوفانہ بحث ہے۔ اسی طرح
ایک اقلیت سے تعلق رکھنے والے صحافی بھائی سے ٹویٹر پر تھوڑی بحث کیا ہوئی
کہ انہوں نے فورا ملائیت کا طعنہ دے مارا اور پھر پاکستان میں اقلیتوں کے ساتھ
ہونے والے "تاریخی ناروا سلوک" کی گردان شروع کردی ۔ یہ
نہایت دکھ کی بات ہے کہ جن لوگوں نے عوام الناس کی فکری راہنمائی کرنا ہوتی
ہے، وہی طبقہ یہ کنفیوژن پھیلانے میں سب
سے پیش پیش ہے۔
یہاں پر سوشل میڈیا کا بہت اہم رول ہے کیوں کہ روایتی میڈیا
کی بنسبت اس پر زیرِبحث موضوعات زیادہ
ہوتے ہیں اور یہاں پر پراپیگنڈہ کرنا
نسبتا آسان ہوتا ہے۔میں چونکہ پروفیشنلی ڈیجیٹل میڈیا کا بندہ ہوں اس لئے
ٹرینڈز اور زور پکڑتی بحثوں پر نظر رکھتا ہوں اور نہایت ذمہ داری سے کہہ رہا ہوں
کہ سوشل میڈیا افواہ ساز فیکٹری کے ساتھ ساتھ شدت پسند رویے پروان چڑہانے کی مشین بنتا جا رہا ہے۔
اسکا نتیجہ میں کوئی سیاسی چول بن رہا ہے، کوئی مذہبی
منافرت کی ایک چلتی پھرتی مثال یا پھر
کوئی پاکستان /اسلام بیزار کنفیوزڈ لبرل۔
سوشل میڈیا پر پائے جانے والے پراپیگنڈہ خیالات کسی نہ کسی طرح پاکستان کی نظریاتی شناخت اور اسلام سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس لئے دوستوں کی کنفیوژن دور کرنے کےلئے
چند نکات لکھ رہا ہوں-
·
"قائد اعظم کا مذہب اور مسلک- دوستو ! یاد رکھیں میرے قائد اسلام پسند راہنما تھے جنکی نظر میں اسلام ایک
'مذہب' نہیں بلکہ راہنما اصولوں کا ایک مجموعہ تھا جس سے ہم معاشرتی، سیاسی، سماجی
اور ذاتی زندگی کے حوالے سے راہنمائی لے سکتے ہیں۔ اس شخص نے اسلامی معاشیات کی اصطلاح تب استعمال
کی جب اسلامک بینکنگ نام کی چڑیا کا وجود بھی نہ تھا۔ جہاں تک انکی مسلکی وابستگی
کی بات ہے تو وہ کسی بھی مسلک سے منسلک نہ تھے بلکہ اسلام پر بطور مسلم یقین کامل
رکھتے تھے- سب سے اہم بات یہ کہ انکی نظر
میں شیعہ سنی کی اہمیت نہ ہونے کے برابر تھی-
اگر ایسا ہوتا تو نہ ہی مولانا شاہ
احمد نورانی کے والد عبدالعلیم میرٹھی مریم بائی کو مسلمان کرتے- نکاح پڑہاتے اور نہ ہی
مولانا شبیر عثمانی انکا جنازہ (یہ دونوں حضرات حنفی تھے)۔ جہاں تک قائد کے سیکولر ہونے کی بات ہے تو عرض
کرتا چلوں کہ وہ صرف پاپائے روم کی طرز کی ملائیت کے مخالف تھے اور پاکستان کو ایک جدید اسلامی ریاست بنانا چاہتے
تھے جو دور حاضر کے تقاضوں کے مطابق دنیا میں ایک رول ماڈل بن سکے۔
·
آئین پاکستان کی رو سے
ہر وہ شخص مسلمان ہے جو اللہ کی
وحدانیت اور رسول اللہ ﷺ کی ختم نبوت پر یقین رکھتا ہو اور یہ دونوں باتیں قائد
میں پائی جاتی تھیں- مجھے اس سے آگے جانے کی نہ تو ضرورت ہے اور نہ ہی شوق۔ آج بھی جو شخص آئین کے تحت مسلمان ہے، اسکو کافر
قرار دینے کا حق نہ تو مجھے ہے اور نہ ہی آپ کو۔
·
اقلیت اور اکثریت کی بات کی جائے تو یاد رکھیں، اسلام نے
ہمیشہ اقلیتوں اور ذمیوں کے حقوق کا خیال رکھا ہے- اگر کہیں مسلمان کسی غیر مسلم
سے غلط سلوک کرے تو سزا کا مستحق مگر اسکی بنیاد پر مذہب کو نشانہ بنانہ غلط ہے۔ پاکستان
میں جب آج بھی اقلیتوں سے بہت بہتر سلوک ہوتا ہے- اگر یقین نہ آئے تو برما، انڈیا
، شام ، ایران اور چین کی مثال لے لیں کہ یہ ممالک اقلیتوں
سے کیا سلوک کر رہے ہیں۔ معاشرتی نفسیات کے مطابق کوئی بھی اکثریت کبھی بھی اقلیت
کو حاکمانہ پوزیشن نہیں دیتی اور یہ
تاریخی حوالوں سے ثابت امر ہے۔ لہذا اگر آپ کو پاکستان میں کوئی اقلیتی بندہ وزیر اعظم بنتا نظر نہیں آتا تو اسی تناظر میں
سمجھیں اوردیکھیں اور خدارا اسکو مذہبی
رنگ دینا بند کریں ۔
·
جہاں تک بات قادیانیت کی ہے تو
میں انکے بنیادی معاشرتی اور مذہبی حقوق
کا دفاع کروں گا- ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ انکے تحفظ کو یقینی
بنائے-لیکن اسکے ساتھ ساتھ یہ بھی ریاست کا حق ہے کہ وہ کسی بھی مشکوک سرگرمی پر
نظر رکھے ۔ مگر یہ اصول صرف اقلیتی جماعتوں
کےلئےنہیں ہے بلکہ ملک میں موجود مسلم اور
غیر مسلم، سرکاری و غیر سرکاری تبلیغی اور
سیاسی جماعتوں کے لئے بھی ہے۔ ریاست سب کو
'under observation ' رکھتی ہے اور اسے رکھنا بھی چاہئے۔
·
ایک اور اہم مسئلہ سعودی عرب اور ایران کی طرفداری کا ہے جہاں روز لوگ لڑ رہے ہوتے ہیں کہ اس طرف جانا
چاہئے کہ اس طرف- پتہ نہیں ہم کیوں نہیں سمجھتے کہ ریاستوں کے درمیان تعلقات مذہب سے زیادہ مفادات
کی بنیاد پر ہوتے ہیں- اسلئے ملک کو بین
الاقوامی تعلقات میں اپنے مفادات کا خیال رکھنا ہوتا ہے- مجھے
کسی بھی اسلامی ملک سے کوئی مسئلہ نہیں ہے مگر جنون کی حد تک پیار ہے تو صرف پاکستان سے۔
ہمارے لئے سب کچھ یہی ہے اور جینا مرنا
اسی کے ساتھ ۔ کسی برادر اسلامی ملک میں بھی چلے جاؤ تو 3rd کلاس
شہریت سے زیادہ کچھ نہیں حاصل ہونا ۔ اس لئے خدا را کسی اور ملک کی وکالت کرنے کے بجائے اپنے ملک
کا مفاد دیکھو – جس کو اسلامی بھائی چارے
کا زیادہ شوق چڑھا ہے تووہ دیکھ لے کہ
لیبیا نے ہمارے ساتھ کیا کیا -
·
ملک میں دو معاملات ایسے ہیں جن پر سیاست نہیں کرنی چاہئے-
ایک معیشت اور دوسرا مذہب۔ جذباتیت بیچ کر سوشل میڈیا پر ہمدردی حاصل کرنا اور
عوام کو غلط انداز میں معلومات فراہم کرنا بھی ریاست سے غداری ہے۔ نوجوان سیاسی
معاملات کو صرف سیاست تک رکھیں اپنی ذاتی زندگیاں مت خراب کریں- مجھے عام انتخابات
2013 کے بعد بہت سے تلخ تجربے ہوئے جہاں خاندان اور سماج میں موجود چند دوستوں نے صرف
اس بیناد پر روابط توڑ دیے کہ تم نے نواز شریف کو کیوں ووٹ دیا۔ معذرت کے ساتھ عرض کرتا چلوں کہ اس معاملے سب سے بچگانہ رویہ محترم عمران خان
صاحب کی کرشماتی شخصیت کے پرستاروں کا ہے۔ اگر سیاسی راہنما مخالفت کے باوجود ایک
دوسرے سے تعلقات نہیں توڑتے اور ساتھ بیٹھ کر گپیں لگا سکتے ہیں تو سیاسی کارکن
کیوں نہیں؟؟؟
دوستو ! باتیں بہت سی ہو سکتی ہیں، مگر مجھے مضمون کی طوالت کا احساس ہے- اس لئے بات کو ختم کرتے وقت
صرف ایک مؤدبانہ گزارش کہ آنکھ بند کر کے کسی پراپیگنڈے کا شکار نہ ہوا کریں بلکہ
اللہ پاک کی عطا کردہ صلاحتیوں کو استعمال کرتے ہوئے حقائق سمجھنے کی کوشش بھی کیا
کریں۔
بات پسند آئے تو دوستوں سے بھی شئر کیجئے گا۔ شکریہ !
Monday, March 3, 2014
تبدیلی ممکن --- مگر کیسے؟
Posted by
Unknown
پاکستان
میں تبدیلی کا لفظ ایک انتخابی نعرہ ہی نہیں بلکہ ایک مقبول عام اصطلاح بن چکا ہے- تا ہم اس تبدیلی کا عرف
عام میں مطلب سیاسی تبدیلی ہوتا ہے- خونی
انقلابی کی بازگشت، 90 دن میں تبدیلی کے
وعدے اور سیاست نہیں ریاست بچاؤ کی گردان--- یہ سب مختلف افراد کی سوچ مگر مقصد
صرف ایک- حصول اقتدار اور اپنے ایجنڈے کا نفاذ۔
مگر
میراموضوع یہ نہیں ہے- بلکہ- سماجی تبدیلی ہے- میرے نزدیک ایک وہی سیاسی انقلاب کافی تھا، جو 1947 میں آ چکا- تاریخ کے
اوراق پر ایک طائرانہ نظر بھی بتا سکتی ہے
کہ وہ کتنا خونی تھا- مزید کسی
خونی انقلاب کو دیکھنے کی ہمت کم از کم مجھ میں نہیں ہے- جہاں تک مذہبی تبدیلی کی بات ہے تو وہ
پیغمبر اعظم ﷺ 1400 سال پہلے لا چکے- اب صرف ان اصولوں پر عملداری کی بات ہے- اور
اس کے لئے کسی سیاسی یا حکومتی تبدیلی کی
نہیں—انفرادی واجتماعی طرز فکر بدلنے کی ضرورت ہے- اگر ہم اجتماعی ضمیر بدلنے میں کامیاب ہو جاتے
ہیں تو کسی سیاسی یا مذہبی ایجنڈے کا نفاذ ناممکن نہیں ۔
معذرت
کیساتھ عرض کرتا ہوکہ موجودہ انقلابی نعرے منافقت کی عمدہ مثال ہیں- اگر مشاہدہ
کرنا ہو تو حکومت پاکستان کی تازہ ترین
'پارلیمانی ٹیکس ڈائریکٹری' دیکھتے چلیں- شرمناک حد تک جھوٹ اور منافقت کی داستانیں اور
ایک سے بڑھ کر ایک تاویل ملے گی- 200 سے
زائد ارکان اسمبلی نے کوئی ٹیکس نہیں ادا کیا- جبکہ کچھ حضرات نے صرف 68، 72،
اور1000 روپے ادا کیے جو کہ کسی بھی ذی ہوش کا دماغ سن کرنے کو کافی ہیں- انتہائی
قابل احترام عمران خان صاحب کی تحریک انصاف جس نے انقلاب کا دعوی کیا--- کا ریکارڈ
سب سے مایوس کن رہا-
صوبہ
خیبر کے 124 ارکان اسمبلی میں سے صرف 35 نے انکم ٹیکس ادا کیا- ھمارے
ایک اور قائد انقلاب 'مولانا فضل الرحمان نے صرف 13000 ٹیکس ادا کیاجسکے مطابق
انکی ماہانہ آمدنی 50،000 روپے بنتی ہے۔(انکم
ٹیکس قوانین کے مطابق 450،000 تک سالانہ آمدنی والے حضرات پر کوئی ٹیکس نہیں- جسکے
مطابق اگر آپکی ماہانہ تنخواہ 37،500 سے
زائد ہے تو آپکو ایک خاص شرح آمدنی ٹیکس ادا کرنا ہے) - وفاق میں صرف وفاقی وزیر عباس آفریدی،
سینٹراعتزاز احسن ،حمزہ شہباز اور چند دیگر اراکین نے قابل ذکر ٹیکس ادا کیا- باقی جنہوں نے ادا کیا وہ انکے طرز زندگی
اور اصل آمدنی کے لحاظ سے بہت کم ہے- تفصیلات کیلئے آپ FBRکی ویب سائٹ وزٹ کر
سکتے ہیں۔ تا کہ آپکو اندازہ ہو سکے کہ تبدیلی کا یہ سیاسی نعرہ کوکھلا ہی نہیں بلکہ تضادات سے
بھرپورطرز سیاست کا علمبردار بھی ہے-
مگر
پھر سوال وہی ہے کہ ہمارے سماجی اورمعاشرتی مسائل کا حل کیا ہے؟
اسکا
حل ہے مگر سیاسی نعروں والی نہیں بلکہ اجتماعی سوچ کی تبدیلی- جسکا آغاز اپنی ذات
سے ہو-
قرآن
حکیم کی سورۃ صف کی دوسری اور تیسری آیت میں اللہ تعالی ٰ نے ارشاد فرمایا:
"اے
ایمان والو ! تم ایسی بات کہتے ہی کیوں
ہو، جو کرتے نہیں- اللہ کے نزدیک بہت ناراضگی کی بات ہے کہ تم وہ کہو جو کرتے
نہیں"۔
اس
آیت کے 2 معانی ہیں- ایک تو یہ وعدوں کی پاسداری کی تلقین کرتی ہیں کہ اگر آپ نے
ایک بات کرنے کی کمٹمنٹ کر لی ہے تو اسے پورا کرو- اللہ پاک وعدہ خلافی کو پسند
نہیں فرماتا- یہ اصول
ھماری ذاتی، سماجی، عائلی اور پروفیشنل زندگی کے ہر ایسپکٹ پر لاگو ہوتا ہے- جبکہ دوسری طرف یہی آیات تبلیغ کے
آداب بھی سکھاتی ہیں- کہ دوسروں کو وہ کام
کرنے کا کیوں کہتے ہو جو خود کرتے نہیں؟ بالفاظ دیگر- دوسروں کو کسی کام کی تلقین کرنے
سے پہلے خود اس پر عمل کرنا چاہئے۔ اوربطور راہنما ایک نمونہ بن کر سامنے آنا
چاہئے- یہی وہ چیز ہے جو ہمارےپیغمبر ﷺ نے کر کے دکھائی جسے ہمارے سیاسی و مذہبی
قائدین انقلاب فراموش کیے ہوئے ہیں- دوسروں کو قربانی کی تلقین، ٹیکس ادا کرنے کی
تبلیغ، اپنی جماعتوں میں جمہوری اقدار کا فروغ وغیرہ وغیرہ—مگر خود اپنی کار کردگی
صفر-
قارئین !
اگر
ہم میں سے ہر فرد اپنی انفرادی ذمہ داری کو صحیح طرح ادا کرتا رہے تو تبدیلی لانے کے لئے کسی قائد انقلاب کو اٹھ کر قوم کے
ساتھ کھیلواڑ کرنے کا موقع نہیں ملے گا۔تبدیلی ممکن ہے—مگر جب ہم اپنا طرز فکر
بدلیں- اور تبدیلی کا آغاز اپنی ذات سے کریں۔ حضور ﷺ نے اگر کسی کو پیٹ پر پتھر
رکھنے کا کہا تو خود 2 رکھے- امت پر پانچ نمازیں فرض تھیں تو آپ پر 6- اسی لیے آپکی ہستی ایک کامل رول ماڈل ہے۔
آپ
خود سے وعدہ کریں کہ میں زمہ دار شہری بنوں گا- اپنی ریاستی ، سماجی اور معاشرتی
زمہ داریاں احسن طور پر ادا کروں گا-ملکی قوانین کی پیرسی کروں گا- کسی کی ذات پر کیچڑ نہیں اچھالوں گا- بد زبانی اور
بد تمیز ی سے گریز کروں گا-حقوق ا للہ اور حقوق العباد سمجھوں گا اور ادا کروں گا- یقین مانیں تبدیلی آ جائے گی- اگر معاشرے میں
صرف 313 لوگ یہ کام کرنے کی ٹھان لیں تو ان کو دیکھ کر ایک خاموش انقلاب آ جائے
گا۔
بطور
معاشرہ ہم میں برداشت کی از حد کمی ہے- اگر ہم صرف برداشت کا کلچر فروغ دیں- جو آپ
سے اختلاف کرتے ہوں انکو بازو کے زور پر نہیں بلکہ دلیل اور اخلاق کی طاقت سے اپنا
ہم نوا بنائیں۔تعلیم عام کریں- خود کو نسلی ، لسانی اورصوبائی تعصبات سے بالا تر
کر کے ایک قوم بنیں- تو کسی اپنے ہم وطن
کا خون بہائے بغیر بھی تبدیلی آ سکتی ہے- اور یقین مانیں اس تبدیلی کے لئے اقتدار
کا ہونا ضروری نہیں- تربیت، اور اعلی اقدار ہی کافی ہیں-
خواجہ
معین الدین چشتی، حضرت علی ہجویری اور مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی جیسے بزرگان
دین کے پاس اقتدار نہیں تھا مگر آج بر صغیر میں اسلام کا وجود ان بزرگوں کے مضبوط
کردار اور سوچ کا رہین منت ہے-
جبکہ
پورے ہندوستاں پر حکومت کرنے والے جب مر گئے تو قبروں پر کتبے لکھوا گئے—
بر
مزار ما غریباں، نے چراغے نے گلے، --- نہ پر پروانہ سوزد، نہ صدائے بلبلے
(ہم
غریبوں کے مزار پر نہ تو کوئی چراغ ہے اور
نہ پھول- نہ ہی پروانہ اپنے پر جلاتا ہے اور نہ ہی بلبل کی صدا سننے کو ملتی ہے)
یہ
پیغام میرے لئے بھی ہے- آپکے لئے بھی—اور ہمارے قائدین انقلاب کےلئے بھی۔
Friday, February 21, 2014
"پرندوں سے بہتر ہے انسان بننا "
Posted by
Unknown
ضمیرصاحب سے میری پہلی ملاقات کینال بینک پر ہوئی تھی- مگر آج ہم بہت گہرے دوست ہیں-
عمروں میں اتنا فرق ہونے کے باوجود، اتنی گہری قربت پر مجھے خود بھی حیرت
تھی- بزنس سے
لیکر عائلی ذندگی اور سیاست تک—ہماری گفتگو کے موضوعات کی ایک طویل فہرست تھی-
وہ بظاہر ایک دنیادار آدمی
مگر باتوں سے اشفاق احمد کے
"بابوں" جیسے مہا انسان تھے-
"جب کبھی دل پریشان ہو، خیالات کی پراگندگی اور بدن کی
تھکاوٹ کوئی کام کرنے نہ دےتو تھوڑا وقت اپنے آپ سے باتیں کرنے میں صرف کر لیا کرو-
روح اللہ کی سب سے بڑی عنایت اور انسان کی بہترین دوست ہے- اس کو بدن کے پنجرہ میں
تنہا نہ چھوڑو بلکہ اس سے مشورہ لیتے رہا کرو-تنہائی کو آباد رکھا کرو- کبھی اکیلا
پن نہیں محسوس ہو گا"۔ اس بات نے شائد میرے سوچنے کا انداز ہی بدل دیا تھا۔
اک دن نہر کنارے چلتے چلتے کہنے لگے—"برخوردار جانتے ہو ، مخلوق میں انسان کا سب سے پہلا استاد کون ہے؟ پھر خود ہی بولے "کوا" - جس نے قابیل کو قبر کھودنا سکھایا۔ مگر انسان کتنا نالائق ہے کہ اس نے پرندے سے صرف موت کا سبق سیکھا جینے کا نہیں"۔
مجھے بہت حیرت ہوئی- بھلا یہ حقیر پرندے انسان کو جینا سکھا سکتے ہیں؟ یہ تو ایک مجبوراور حقیر سی مخلوق ہیں۔ اور کہاں اشرف المخلوقات۔
وہ قہقہہ لگا کر ہنس پڑے اور بولے-"جھلیا۔۔۔ ایسے نہیں کہتے"—سوہنے نے کوئی چیز بیکار نہیں پیدا کی۔
پرندوں
کی زندگی میں انسان کیلیئے 6سبق ہیں۔
1. یہ کبھی بھیک نہیں مانگتے—محنت اورجہد مسلسل سے اپنا اور بچوں کا پیٹ پالتے ہیں۔
2. یہ وقت کے بہت پابند ہوتے ہیں – ہم سے پہلے اٹھتے ہیں، وقت
پر رزق کی تلاش میں نکلتے ہیں اور وقت پر واپس اپنے گھر لوٹتے ہیں۔
3. پرندوں میں کمال حد تک اتحاد اور تنظیم کا جذبہ پایا جاتا ہے- اکیلے اور بغیر کسی راہنما کے
سفر بھی نہیں کرتے-
4. تمہیں کوئی پرندہ ذخیرہ اندوزی کرتا نظر نہیں آئے گا – کیونکہ یہ حریٖص نہیں ہوتے-
5. اور سب سے بڑھ کر یہ صابر اور توکل کرنے والی مخلوق ہے-
جسکی کی گواہی پیارے نبی ﷺنے بھی دی-
فرمایا - "جنت میں ایک ایسا گروہ داخل ہو گا جسکے دل پرندوں جیسے ہوں گے
(یعنی صبر اور توکل کرنے والے)" ۔
6. آخری بات یہ کہ پکھیرو مسقل ایک جگہ یا مقام کے قیدی ہو کر
نہیں رہتے-کسی جگہ کو جاگیر نہیں بناتے بلکہ جہاں رزق اور سازگار ماحول مل جائے
وہیں ڈیرہ ڈال لیتے ہیں.
اب
سمجھ آئی کہ میری بات کا مطلب کیا ہے؟
مجھ
سے کوئی جواب نہ بن سکا تو میں ہنس پڑا – کیونکہ یہ تھوڑی وکھری ٹائپ کی باتیں تھیں جن کا میری
زندگی، کام کاج اور ڈیجیٹل مارکیٹنگ سے دور تک کوئی رشتہ نہ تھا – اٹھ کر سلام کیا
اور گھر کی جانب چل پڑا—
جبکہ پیٹھ پیچھے کوئی پگلا اونچی آواز میں پڑھ رہا تھا۔۔
"پرندوں
سے بہتر ہے انسان بننا، مگر اس میں لگتی ہے محنت زیادہ"
(شاعر سے معذرت کیساتھ)